جب ان کی نگاہوں سے ملیں اپنی نگاہیں
جب ان کی نگاہوں سے ملیں اپنی نگاہیں
قدموں میں سمٹ آئیں سبھی زیست کی راہیں
دشمن سے محبت ہے ترے نام کی خاطر
ہم تجھ سے کریں پیار کہ دشمن سے نباہیں
دیکھیں دل آئینہ میں اپنا بھی سراپا
یہ بھی تری تصویر ہے یوں بھی تجھے چاہیں
کیا جانیے کب پاؤں سے نکلے خلش خار
کیا جانیے لے جائیں کہاں درد کی راہیں
وہ گنبد افلاک کا سر پھوڑ رہے ہیں
دنیا میں کہیں بھی نہ ملیں جن کو پناہیں
جو ہے سو وہی ہاتھ میں تلوار لیے ہے
جب قید تھے الفاظ اب آزاد ہیں باہیں
اب دیکھ لے دنیا بھی بہائے دل و دیدہ
جب مخزن جاں تھے ترے آنسو مری آہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.