جب بھی جانب منزل ہم قدم بڑھاتے ہیں
جب بھی جانب منزل ہم قدم بڑھاتے ہیں
حادثات ہٹ ہٹ کر راستہ بناتے ہیں
آشیاں بلندی پر اس لئے بناتے ہیں
فاصلے کی زحمت سے برق کو بچاتے ہیں
اپنی راہ سے پتھر جب بھی ہم ہٹاتے ہیں
آنکھ میں کئی چہرے گھوم گھوم جاتے ہیں
جب پہنچ نہیں سکتی روشنی مزاروں میں
پھر دیئے مزاروں پر لوگ کیوں جلاتے ہیں
وسعت دو عالم میں جو سما نہیں سکتے
کس طرح تعجب ہے دل میں وہ سماتے ہیں
دعویٔ انا کیا ہے فکر کی بلندی ہے
اور اس بلندی کو پانے والے پاتے ہیں
موت و زندگی گویا شغل ہے عدیلؔ ان کا
نقش اک بناتے ہیں نقش اک مٹاتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.