Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جب بھی جانب منزل ہم قدم بڑھاتے ہیں

نظیر علی عدیل

جب بھی جانب منزل ہم قدم بڑھاتے ہیں

نظیر علی عدیل

MORE BYنظیر علی عدیل

    جب بھی جانب منزل ہم قدم بڑھاتے ہیں

    حادثات ہٹ ہٹ کر راستہ بناتے ہیں

    آشیاں بلندی پر اس لئے بناتے ہیں

    فاصلے کی زحمت سے برق کو بچاتے ہیں

    اپنی راہ سے پتھر جب بھی ہم ہٹاتے ہیں

    آنکھ میں کئی چہرے گھوم گھوم جاتے ہیں

    جب پہنچ نہیں سکتی روشنی مزاروں میں

    پھر دیئے مزاروں پر لوگ کیوں جلاتے ہیں

    وسعت دو عالم میں جو سما نہیں سکتے

    کس طرح تعجب ہے دل میں وہ سماتے ہیں

    دعویٔ انا کیا ہے فکر کی بلندی ہے

    اور اس بلندی کو پانے والے پاتے ہیں

    موت و زندگی گویا شغل ہے عدیلؔ ان کا

    نقش اک بناتے ہیں نقش اک مٹاتے ہیں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے