Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

غیروں کے دماغوں میں جلتا ہوں تو جلنے دو

عبد الحفیظ نعیمی

غیروں کے دماغوں میں جلتا ہوں تو جلنے دو

عبد الحفیظ نعیمی

MORE BYعبد الحفیظ نعیمی

    غیروں کے دماغوں میں جلتا ہوں تو جلنے دو

    اک رات تو بانہوں میں یہ شمع پگھلنے دو

    اک روز چھٹے گا ہی یہ درد کا بادل بھی

    وادئ محبت کا موسم تو بدلنے دو

    تکلیف کرم کیوں دو تم اپنے تغافل کو

    بچہ ہیں تمنائیں بچوں کو مچلنے دو

    ابھریں گے چٹانوں سے شعروں کے حسیں پیکر

    احساس کی بھٹی میں جذبوں کو پگھلنے دو

    یہ آستیں خنجر کی جاگیر نہیں یارو

    اچھا ہے اگر اس میں کچھ سانپ بھی پلنے دو

    بھٹکیں گے ابھی راہی جسموں کے گھنے بن میں

    ان گھٹتی ہواؤں کو کچھ رخ تو بدلنے دو

    چھینو نہ ابھی لذت دزدیدہ تبسم کی

    کچھ دیر کھلونوں سے خوابوں کو بہلنے دو

    سورج کی گپھاؤں میں جا سوئے گا ہر سایہ

    تنہائی میں پگھلوگے یہ رات تو ڈھلنے دو

    اک لاش تو دفنا لوں میں وقت کے دریا میں

    اے حادثو پہلے تو کچھ دل کو سنبھلنے دو

    طغیان وفا بن کر لوٹ آؤں میں پھر شاید

    اپنے سے جدا ہو کر کچھ دور تو چلنے دو

    یہ ضبط کے پہرے میں زخموں کی انا کب تک

    اک چیخ نعیمیؔ اب ہونٹوں سے نکلنے دو

    مأخذ :

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے