غیروں کے دماغوں میں جلتا ہوں تو جلنے دو
غیروں کے دماغوں میں جلتا ہوں تو جلنے دو
اک رات تو بانہوں میں یہ شمع پگھلنے دو
اک روز چھٹے گا ہی یہ درد کا بادل بھی
وادئ محبت کا موسم تو بدلنے دو
تکلیف کرم کیوں دو تم اپنے تغافل کو
بچہ ہیں تمنائیں بچوں کو مچلنے دو
ابھریں گے چٹانوں سے شعروں کے حسیں پیکر
احساس کی بھٹی میں جذبوں کو پگھلنے دو
یہ آستیں خنجر کی جاگیر نہیں یارو
اچھا ہے اگر اس میں کچھ سانپ بھی پلنے دو
بھٹکیں گے ابھی راہی جسموں کے گھنے بن میں
ان گھٹتی ہواؤں کو کچھ رخ تو بدلنے دو
چھینو نہ ابھی لذت دزدیدہ تبسم کی
کچھ دیر کھلونوں سے خوابوں کو بہلنے دو
سورج کی گپھاؤں میں جا سوئے گا ہر سایہ
تنہائی میں پگھلوگے یہ رات تو ڈھلنے دو
اک لاش تو دفنا لوں میں وقت کے دریا میں
اے حادثو پہلے تو کچھ دل کو سنبھلنے دو
طغیان وفا بن کر لوٹ آؤں میں پھر شاید
اپنے سے جدا ہو کر کچھ دور تو چلنے دو
یہ ضبط کے پہرے میں زخموں کی انا کب تک
اک چیخ نعیمیؔ اب ہونٹوں سے نکلنے دو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.