بھری بہار میں جب پھول مسکراتے ہیں
بھری بہار میں جب پھول مسکراتے ہیں
کہاں کہاں تجھے دیوانے ڈھونڈ آتے ہیں
کبھی رلاتے ہیں دل کو کبھی ہنساتے ہیں
وہ ہر طرح سے محبت میں آزماتے ہیں
ترے کرم کی تو ہے بات ہی الگ اے دوست
ترا ستم بھی مقدر سے لوگ پاتے ہیں
تمہاری ایک جھلک آج تک بھلا نہ سکا
کسی کو لوگ یہاں کیسے بھول جاتے ہیں
ہے انتہائے خلوص وفا کہ دشمن کو
تری خوشی کے لیے ہم گلے لگاتے ہیں
نجانے راہبروں کی سمجھ میں کیا آیا
پلٹ کے آئے جدھر سے ادھر ہی جاتے ہیں
لب حیات سے نغمے نہ چھن سکے گلچیں
اسیر درد قفس میں بھی گنگناتے ہیں
ادا شناس محبت عزیزؔ ہیں ہم لوگ
دلوں کے راز نگاہوں سے جان جاتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.