بدن کا زخم گل بوٹا نہیں ہے
بدن کا زخم گل بوٹا نہیں ہے
فسانہ دل کا کچھ جھوٹا نہیں ہے
نئے زخموں کی سوغاتیں عطا کر
ابھی یہ دل بہت ٹوٹا نہیں ہے
غموں کی بے سر و سامانی دیکھو
سلیقے سے مجھے لوٹا نہیں ہے
ازل سے سر پہ پتھر مارتا ہوں
ابھی تک میرا سر پھوٹا نہیں ہے
توجہ ہو کہ ہو بے التفاتی
ابھی تک مجھ سے وہ روٹھا نہیں ہے
ستم کرتے رہے وہ پھر بھی مجھ سے
وفا کا راستہ چھوٹا نہیں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.