یہ عقد دل ہے فقط رسم یا زباں کا نہیں
یہ عقد دل ہے فقط رسم یا زباں کا نہیں
یہ وصل وقت کے دھاگے میں اس جہاں کا نہیں
یہاں انا نہیں چلتی یہاں جھکاؤ ہے شرط
یہ ساتھ ضد یا انا کے کسی نشاں کا نہیں
یہ راستہ ہے رضامند دو دلوں کا سفر
یہ رشتہ محض کسی ایک کے گماں کا نہیں
قبول دل نے سکھایا ہے عقد کا مطلب
یہ ساتھ چلنے کا موقع ہے امتحاں کا نہیں
یہ ایک وعدہ ہے جو خود کو سونپ دینے کا
یہ بوجھ لفظ کا رسموں کے کارواں کا نہیں
ہم اپنے دل کو تری روح میں بسائیں گے
مقام دل تو کسی دوسرے مکاں کا نہیں
یہ اس کے دل نے ترے دل کو گھر بنایا ہے
وگرنہ تو دل احساں تو داستاں کا نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.