Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

یہ عقد دل ہے فقط رسم یا زباں کا نہیں

احسان خان مسعود

یہ عقد دل ہے فقط رسم یا زباں کا نہیں

احسان خان مسعود

MORE BYاحسان خان مسعود

    یہ عقد دل ہے فقط رسم یا زباں کا نہیں

    یہ وصل وقت کے دھاگے میں اس جہاں کا نہیں

    یہاں انا نہیں چلتی یہاں جھکاؤ ہے شرط

    یہ ساتھ ضد یا انا کے کسی نشاں کا نہیں

    یہ راستہ ہے رضامند دو دلوں کا سفر

    یہ رشتہ محض کسی ایک کے گماں کا نہیں

    قبول دل نے سکھایا ہے عقد کا مطلب

    یہ ساتھ چلنے کا موقع ہے امتحاں کا نہیں

    یہ ایک وعدہ ہے جو خود کو سونپ دینے کا

    یہ بوجھ لفظ کا رسموں کے کارواں کا نہیں

    ہم اپنے دل کو تری روح میں بسائیں گے

    مقام دل تو کسی دوسرے مکاں کا نہیں

    یہ اس کے دل نے ترے دل کو گھر بنایا ہے

    وگرنہ تو دل احساں تو داستاں کا نہیں

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے