Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

تمام ہو چکا جب درس کج ادائی کا

فصاحت لکھنوی

تمام ہو چکا جب درس کج ادائی کا

فصاحت لکھنوی

MORE BYفصاحت لکھنوی

    تمام ہو چکا جب درس کج ادائی کا

    تو پھر سبق پڑھا لیلی نے بے وفائی کا

    شب وصال یہی سوچتا ہوں شام سے میں

    خدا ہی خیر کرے کل ہے دن جدائی کا

    پٹک پٹک کے سر اس در پہ کہتے ہیں عاشق

    یہی مقام ہے تقدیر آزمائی کا

    غضب تھا قہر تھا اے نازنیں بہ وقت ذبح

    نگاہ پھرتے ہی مڑنا تری کلائی کا

    عجب نہیں ہے کہ پہروں بڑھے وصال کی رات

    کروں جو ذکر گھڑی بھر شب جدائی کا

    قفس سے دور چمن سے قریب ہو بلبل

    بندھے خیال اسیری میں یوں رہائی کا

    لگن ہے تخت دھواں ہے چنور تو شعلہ تاج

    مقر ہے شمع ہر اک تیری بادشائی کا

    مرے مکان میں آ کر سیاہ ہوتی ہے شمع

    جو گھیرتا ہے اندھیرا شب جدائی کا

    ضرر سے بھی ہو نہ مجھ میکش فقیر کو رنج

    سبو جو ٹوٹے تو کاسہ بنے گدائی کا

    مشاعرے میں ہیں فاخر کے جمع اہل سخن

    یہیں ہے لطف فصاحتؔ غزل سرائی کا

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے