تمام ہو چکا جب درس کج ادائی کا
تمام ہو چکا جب درس کج ادائی کا
تو پھر سبق پڑھا لیلی نے بے وفائی کا
شب وصال یہی سوچتا ہوں شام سے میں
خدا ہی خیر کرے کل ہے دن جدائی کا
پٹک پٹک کے سر اس در پہ کہتے ہیں عاشق
یہی مقام ہے تقدیر آزمائی کا
غضب تھا قہر تھا اے نازنیں بہ وقت ذبح
نگاہ پھرتے ہی مڑنا تری کلائی کا
عجب نہیں ہے کہ پہروں بڑھے وصال کی رات
کروں جو ذکر گھڑی بھر شب جدائی کا
قفس سے دور چمن سے قریب ہو بلبل
بندھے خیال اسیری میں یوں رہائی کا
لگن ہے تخت دھواں ہے چنور تو شعلہ تاج
مقر ہے شمع ہر اک تیری بادشائی کا
مرے مکان میں آ کر سیاہ ہوتی ہے شمع
جو گھیرتا ہے اندھیرا شب جدائی کا
ضرر سے بھی ہو نہ مجھ میکش فقیر کو رنج
سبو جو ٹوٹے تو کاسہ بنے گدائی کا
مشاعرے میں ہیں فاخر کے جمع اہل سخن
یہیں ہے لطف فصاحتؔ غزل سرائی کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.