صحرا نکال دوں کبھی دریا نکال دوں
صحرا نکال دوں کبھی دریا نکال دوں
یہ مجھ پہ ہے کہ آنکھ سے کب کیا نکال دوں
اتنی بڑی قطار میں عجلت بھی ہے تجھے
گر تو کہے تو دوسرا رستہ نکال دوں
چھو کر کہیں سے اور کہیں چوم کر تجھے
آ جا ترے بدن کا میں صدقہ نکال دوں
دست ہنر کو بوسۂ جاناں اگر ملے
میں کوئلے کی کان سے ہیرا نکال دوں
تو مستقل گیا ہے سو ممکن ہے اب کی بار
مجھ میں شمول تیرا میں حصہ نکال دوں
حسامؔ تم بھی اس کی زباں بولنے لگے
ایسا نہ ہو میں تم پہ ہی غصہ نکال دوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.