روز آفت نئی زمیں پر ہے
روز آفت نئی زمیں پر ہے
کوئی تو مسئلہ کہیں پر ہے
چپ ہی تکرار پر مصر ہوتی
ختم اصرار ہاں نہیں پر ہے
روز گرتے ہیں ٹھوکریں کھا کر
پھر بھی وہ سنگ رہ وہیں پر ہے
وسوسے باعث ندامت ہیں
سارا ایمان تو یقیں پر ہے
پہلے شکوہ تھا کوئی رہتا نہیں
اب کہ برہم یہ دل مکیں پر ہے
لمس اس کا بھلائے کیسے وصالؔ
ثبت بوسہ جو اس جبیں پر ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.