اپنے در سے نہ کبھی مجھ کو اٹھانا جاناں
اپنے در سے نہ کبھی مجھ کو اٹھانا جاناں
تو اگر ہے تو میسر ہے زمانہ جاناں
میں اگر شعر ہوں تم دوسرا مصرع جاناں
تم جو مل جاؤ تو ہو جاؤں گا پورا جاناں
ہم سے مت ملیے رقیبوں سے تو دوری رکھیے
ٹوٹ جائے نہ کہیں دل کا بھروسہ جاناں
جھوٹا وعدہ ہی کرو ہم تو یقیں کرتے ہیں
پھر بنا لینا نیا کوئی بہانہ جاناں
یہ گزارش ہے کہ بازاروں کی زینت نہ بنو
تم تو اچھے ہو برا ہے یہ زمانہ جاناں
تیرے آنے کہ خبر سن کے بہار آئی ہے
پھول کھل اٹھے ہیں موسم ہے سہانا جاناں
دل ابھی ٹھیک سے ٹوٹا بھی نہیں ہے میرا
ٹھیک سے توڑ کے جانا ہو تو جانا جاناں
داغ چہرے کے تو دھل جاتے ہیں لیکن اے بلالؔ
داغ دامن پہ نہ لگ جائے بچانا جاناں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.