افواہ جو اڑائی گئی ہے وہ جھوٹ ہے
افواہ جو اڑائی گئی ہے وہ جھوٹ ہے
میرے تمہارے پیار کا بندھن اٹوٹ ہے
دل بھی گیا سکون بھی راتوں کی نیند بھی
یہ کوئی پیار ویار نہیں بلکہ لوٹ ہے
ساقی شراب کی کوئی خواہش نہیں مجھے
کافی نگاہ یار کا ایک آدھ گھونٹ ہے
بچھڑو تو اس طرح سے کہ شرمندگی نہ ہو
میرے مزاج کو بھی یہ انداز سوٹ ہے
اس دور پر فتن کے عجب رنگ روپ ہیں
جینے پہ روک ٹوک ہے مرنے کی چھوٹ ہے
ہر شخص اتحاد کی کوشش میں ہے مگر
افسوس بھائی بھائی کی آپس میں پھوٹ ہے
پیشانی چوم کر اسے راضی کرو سحرؔ
ناراض ہے وہ تم سے مگر جھوٹ موٹ ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.