تجھ سے ویران ساعتوں میں ملوں
تجھ سے ویران ساعتوں میں ملوں
بھاگتے وقت دور دور رہوں
روح کے دھوپ دھوپ صحرا میں
سایہ سایہ میں تیرے ساتھ چلوں
پھول بن کر ترے لبوں پہ کھلوں
چشم نم سے ستارہ وار گروں
عمر بھر کی اذیتوں کا علاج
تجھ کو دل سے جلا وطن کر دوں
بہہ سکوں اب نہ میں کناروں میں
سیل بن کر نگر نگر پھیلوں
میرے ہر سمت پانی پانی ہے
اور میں گھونٹ گھونٹ کو ترسوں
چیتھڑا چیتھڑا ہے ذات اپنی
رات دن انقلاب کی سوچوں
کر کے اپنے وجود کے ٹکڑے
کہہ رہا ہوں کہ فائدے میں ہوں
مردہ روحوں سے زندگی مانگوں
ظلمتوں سے کرن کشید کروں
میں ہوں فطرت کا لاڈلا بچہ
چاند مانگوں تو بن لیے نہ ٹلوں
عالم جاں کنی میں بھی خالدؔ
روشنی روشنی پکارتا ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.