ستارے جس کے عناں گیر ہیں وہ ذرہ ہوں
ستارے جس کے عناں گیر ہیں وہ ذرہ ہوں
مجھے تلاش تو کر میں بھی ایک دنیا ہوں
مرا غبار پہنچتا ہے تا حد امکاں
میں دشت شوق ہوں جولاں گہ تمنا ہوں
خوشی کے پھول بھی اکثر کھلائے ہیں لیکن
جو نخل غم کو ثمر ور کرے وہ جھونکا ہوں
فضائے جاں ہے کہ حسرت کدے کا سناٹا
نوائے تار نفس سے بھی کانپ اٹھتا ہوں
ابھی تو میرے مغنی کو بھی نہیں معلوم
شکست ساز کی جھنکار ہوں کہ نغمہ ہوں
یہاں بھی ہو گئے اغیار انجمن آرا
میں اپنے دل کی بھری محفلوں میں تنہا ہوں
رہ وفا کے مراحل بھی کتنے نازک تھے
میں اپنے آپ سے دامن بچا کے گزرا ہوں
نظر سے صاف جھلکتے ہیں دل کے ویرانے
وہ حال ہے کہ اب آئینے سے بھی ڈرتا ہوں
وہ جس کے ساتھ تھی اک نکہتوں کی شہزادی
اس ایک موجۂ باد خزاں سے مہکا ہوں
جلا ہوں جب سے چناروں کی آگ میں صادقؔ
وطن میں آ کے بھی کچھ اجنبی سا لگتا ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.