ساعت عمر گزرتی رہی ارزانی میں
ساعت عمر گزرتی رہی ارزانی میں
جسم یکسر تھا نمک اور بسر پانی میں
وہ سمجھتا ہے کہ برباد کیا ہے اس نے
ہم کہ آباد ہوئے جاتے ہیں ویرانی میں
لہریں بڑھ بڑھ کے چلی آتی ہیں بوسہ لینے
پاؤں رکھا نہیں میں نے ابھی طغیانی میں
سہل اتنا بھی نہ جانو مجھے اے ہم سفراں
مشکلیں ڈھونڈھتا رہتا ہوں میں آسانی میں
دل کے آئینے میں کس شخص کا پرتو تھا ندیمؔ
عمر جو ساری گزاری گئی حیرانی میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.