رت کیسے بدلے کون آئے اس دشت میں پھول کھلانے کو
رت کیسے بدلے کون آئے اس دشت میں پھول کھلانے کو
کیوں خواب دکھاتے رہتے ہو دیوانے کے فرزانے کو
ہاں ٹھیک تو ہے کب تک بھٹکیں ادھ کھلے گلاب کی وادی میں
رک جاؤ ذرا اے ہم سفرو تیار ہیں ہم بھی جانے کو
گملوں میں اگے پھولوں ہی سے اب خوش اہل جنوں ہو جاتے ہیں
دیوانے گاڑی کی کھڑکی سے دیکھتے ہیں ویرانے کو
اے بے حس رت کی تیز ہوا ان سے بھی الجھ ان کو بھی اٹھا
بیٹھے ہیں ابھی کچھ لوگ یہاں دکھ سہنے کو غم کھانے کو
کچھ آس مرے دم ساز تو دے مرے ساتھ نہ چل آواز تو دے
کوئی تو کرن روشن رکھے اس شوق کے بندی خانے کو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.