Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

رت کیسے بدلے کون آئے اس دشت میں پھول کھلانے کو

احمد مشتاق

رت کیسے بدلے کون آئے اس دشت میں پھول کھلانے کو

احمد مشتاق

MORE BYاحمد مشتاق

    رت کیسے بدلے کون آئے اس دشت میں پھول کھلانے کو

    کیوں خواب دکھاتے رہتے ہو دیوانے کے فرزانے کو

    ہاں ٹھیک تو ہے کب تک بھٹکیں ادھ کھلے گلاب کی وادی میں

    رک جاؤ ذرا اے ہم سفرو تیار ہیں ہم بھی جانے کو

    گملوں میں اگے پھولوں ہی سے اب خوش اہل جنوں ہو جاتے ہیں

    دیوانے گاڑی کی کھڑکی سے دیکھتے ہیں ویرانے کو

    اے بے حس رت کی تیز ہوا ان سے بھی الجھ ان کو بھی اٹھا

    بیٹھے ہیں ابھی کچھ لوگ یہاں دکھ سہنے کو غم کھانے کو

    کچھ آس مرے دم ساز تو دے مرے ساتھ نہ چل آواز تو دے

    کوئی تو کرن روشن رکھے اس شوق کے بندی خانے کو

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے