پھولے پھلے ہیں بے سر و سامانیوں میں ہم
پھولے پھلے ہیں بے سر و سامانیوں میں ہم
اک پھول بن کے مہکے ہیں ویرانیوں میں ہم
اس پیکر جمال کے اعجاز حسن سے
ڈوبے ہیں بن کے آئنہ حیرانیوں میں ہم
شاید سکوں سے دل کو کوئی ربط بھی نہ تھا
کیا مطمئن رہے ہیں پریشانیوں میں ہم
ابھرے تو اپنے آپ میں آئے نہ عمر بھر
ڈوبے تھے حسن یار کی طغیانیوں میں ہم
اب تو کھٹک رہے ہیں جہاں کی نگاہ میں
مشہور کس قدر تھے گل افشانیوں میں ہم
چرچا ہماری سادہ دلی کا ہے شہر میں
بدنام کتنے ہو گئے نادانیوں میں ہم
افتاد طبع کا وہی عالم ہے آج بھی
برباد اگرچہ ہو گئے من مانیوں میں ہم
سارے جہاں میں کوئی خریدار ہی نہیں
اتنے گراں بہا ہوئے ارزانیوں میں ہم
پاس وفا سے لب پہ شکایت نہیں رضاؔ
کچھ کم نہیں کسی سے پشیمانیوں میں ہم
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.