Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

پھر دل و جاں کی شکستوں کے زمانے آئے

اقبال صفی پوری

پھر دل و جاں کی شکستوں کے زمانے آئے

اقبال صفی پوری

MORE BYاقبال صفی پوری

    پھر دل و جاں کی شکستوں کے زمانے آئے

    وہ مجھے عہد وفا یاد دلانے آئے

    دفعتاً یوں ہوئے رخصت کہ نہ دیکھا مڑ کر

    وہ تو جب آئے قیامت ہی اٹھانے آئے

    لوگ گلشن ہی میں دیکھا کیے خواب گلشن

    ہم تو ویرانے کو گلزار بنانے آئے

    نام بڑھتے گئے فہرست شناسائی میں

    کام کچھ آئے تو بس دوست پرانے آئے

    چارہ گر آئے تو لیکن یہ خبر ہے کس کو

    زخم دل سینے کو یا دل کو دکھانے آئے

    وہ بھی کیا لوگ تھے ساقی سے جو قصداً نہ ملے

    بادہ خواروں سے رہ و رسم بڑھانے آئے

    عشق کی اپنی روش حسن کا اپنا مسلک

    مجھ کو پیار آیا اسے حیلے بہانے آئے

    کتنے مضطر تھے مگر جب بھی ملے ہم ان سے

    کھو گئے ایسے کہ لب پر نہ فسانے آئے

    وہ بھی ہیں لوگ جنہوں نے کرم اک بار کیا

    اور پھر روز ہی احسان جتانے آئے

    اتنا کھنچ کر بھی یہ حسرت ہے کہ شاید اقبالؔ

    اب در دل کھلے اب کوئی بلانے آئے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے