پھر دل و جاں کی شکستوں کے زمانے آئے
پھر دل و جاں کی شکستوں کے زمانے آئے
وہ مجھے عہد وفا یاد دلانے آئے
دفعتاً یوں ہوئے رخصت کہ نہ دیکھا مڑ کر
وہ تو جب آئے قیامت ہی اٹھانے آئے
لوگ گلشن ہی میں دیکھا کیے خواب گلشن
ہم تو ویرانے کو گلزار بنانے آئے
نام بڑھتے گئے فہرست شناسائی میں
کام کچھ آئے تو بس دوست پرانے آئے
چارہ گر آئے تو لیکن یہ خبر ہے کس کو
زخم دل سینے کو یا دل کو دکھانے آئے
وہ بھی کیا لوگ تھے ساقی سے جو قصداً نہ ملے
بادہ خواروں سے رہ و رسم بڑھانے آئے
عشق کی اپنی روش حسن کا اپنا مسلک
مجھ کو پیار آیا اسے حیلے بہانے آئے
کتنے مضطر تھے مگر جب بھی ملے ہم ان سے
کھو گئے ایسے کہ لب پر نہ فسانے آئے
وہ بھی ہیں لوگ جنہوں نے کرم اک بار کیا
اور پھر روز ہی احسان جتانے آئے
اتنا کھنچ کر بھی یہ حسرت ہے کہ شاید اقبالؔ
اب در دل کھلے اب کوئی بلانے آئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.