منہ چڑانے لگے در و دیوار
منہ چڑانے لگے در و دیوار
اب کوئی گھر ہو بے در و دیوار
زخم ابھرے کہ کوئی نقش بنا
کیا سے کیا ہو گئے در و دیوار
اک کرن روشنی کی پا نہ سکے
روزن صبح سے در و دیوار
اب وہ یادوں کے سلسلے بھی نہیں
کتنے تنہا ہوئے در و دیوار
اک زمانہ ہوا ملے بھی نہیں
موجۂ رنگ سے در و دیوار
عمر بھر گھر بسانے والے کی
راہ دیکھا کیے در و دیوار
یاں خرابی نے کچھ نہیں چھوڑا
بے کسی اور مرے در و دیوار
آئی دل کو بھی راس ویرانی
ویسے کچھ کم نہ تھے در و دیوار
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.