جی چاہے جو کچھ تیرا سو دشنام دے مجھ کو (ردیف .. ی)
جی چاہے جو کچھ تیرا سو دشنام دے مجھ کو
جو دے گا دعا تجھ کو تو میری ہی زبانی
اک خلق کی نظروں میں سبک ہو گیا لیکن
کرتا ہوں میں اب تک تری خاطر یہ گرانی
ٹک دیدۂ تحقیق سے تو دیکھ زلیخا
ہر چاہ میں آتا ہے نظر یوسف ثانی
معمور ہے جس روز سے ویرانۂ دنیا
ہر جنس کے انسان کی ماٹی گئی چھانی
کیا کیا ملے لیلیٰ منشاں خاک میں سوداؔ
گو اپنے بھی محبوب کی دیکھی نہ جوانی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.