Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جب کبھی تنقید کی ہے موجۂ گرداب پر

مظفر وارثی

جب کبھی تنقید کی ہے موجۂ گرداب پر

مظفر وارثی

MORE BYمظفر وارثی

    جب کبھی تنقید کی ہے موجۂ گرداب پر

    سینکڑوں شکنیں ابھر آئیں جبین آب پر

    کانپتے ہیں رات کے پردے میں کیوں کرنوں کے ہاتھ

    داغ یہ کس نے لگایا چادر مہتاب پر

    آئی ہے جنگل کے پھولوں سے مجھے بوئے وفا

    مر مٹا ہوں میں تو اس ویرانیٔ شاداب پر

    بات کی مجھ سے نہ دل دے کر کبھی احباب نے

    میں نے دھوکے کھائے ہیں فرمائش احباب پر

    راکھ کا اک ڈھیر بن کر رہ گیا سینے میں دل

    آگ برساتی رہی دنیا مرے اعصاب پر

    کھل چلے تھے رفتہ رفتہ مجھ پہ کچھ اسرار شب

    پھیر دی غم نے سیاہی دیدۂ بے خواب پر

    ہے مرے قدموں کے نیچے سے زمیں نکلی ہوئی

    چل رہا ہوں وقت کے بڑھتے ہوئے سیلاب پر

    یوں مظفرؔ آج ان پلکوں پہ آنسو آ گئے

    جس طرح جلتے دیے پیشانیٔ محراب پر

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے