جب کبھی تنقید کی ہے موجۂ گرداب پر
جب کبھی تنقید کی ہے موجۂ گرداب پر
سینکڑوں شکنیں ابھر آئیں جبین آب پر
کانپتے ہیں رات کے پردے میں کیوں کرنوں کے ہاتھ
داغ یہ کس نے لگایا چادر مہتاب پر
آئی ہے جنگل کے پھولوں سے مجھے بوئے وفا
مر مٹا ہوں میں تو اس ویرانیٔ شاداب پر
بات کی مجھ سے نہ دل دے کر کبھی احباب نے
میں نے دھوکے کھائے ہیں فرمائش احباب پر
راکھ کا اک ڈھیر بن کر رہ گیا سینے میں دل
آگ برساتی رہی دنیا مرے اعصاب پر
کھل چلے تھے رفتہ رفتہ مجھ پہ کچھ اسرار شب
پھیر دی غم نے سیاہی دیدۂ بے خواب پر
ہے مرے قدموں کے نیچے سے زمیں نکلی ہوئی
چل رہا ہوں وقت کے بڑھتے ہوئے سیلاب پر
یوں مظفرؔ آج ان پلکوں پہ آنسو آ گئے
جس طرح جلتے دیے پیشانیٔ محراب پر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.