Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ان خرابوں سے تصور بھی کبھی گزرا نہ تھا

صادق نسیم

ان خرابوں سے تصور بھی کبھی گزرا نہ تھا

صادق نسیم

MORE BYصادق نسیم

    ان خرابوں سے تصور بھی کبھی گزرا نہ تھا

    شہر دل ویراں تھا لیکن اتنا سناٹا نہ تھا

    زندگی موج سراب شوق تھی دریا نہ تھا

    کون تھا جو ریگزار دہر میں پیاسا نہ تھا

    کس قدر تھے خوشنما موج طلب کے زیر و بم

    جب قدم رکھا تو پہنائی کا اندازہ نہ تھا

    ہر رگ گل میں صدائے نالہ زنجیر تھی

    رنگ کے پردوں میں زندانی کوئی دیوانہ تھا

    ظلمت آباد بدن میں یہ ہوا کیسی چلی

    شعلۂ جاں اس سے پہلے یوں کبھی لرزا نہ تھا

    آفتاب ہجر کی گرمی تھی محشر در کنار

    دن تو دن دامان شب میں بھی کہیں سایہ نہ تھا

    اپنے اپنے درد میں ڈوبے ہوئے تھے راہ رو

    اہل غم کا کارواں بھی کارواں لگتا نہ تھا

    جس گل اندام تصور کے نکھارے تھے نقوش

    میں نے اس تصویر نغمہ کو کبھی دیکھا نہ تھا

    آرزو کی وسعتیں اس کو کہاں تک لے گئیں

    ورنہ صادقؔ ایک مشت خاک تھا صحرا نہ تھا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے