ان خرابوں سے تصور بھی کبھی گزرا نہ تھا
ان خرابوں سے تصور بھی کبھی گزرا نہ تھا
شہر دل ویراں تھا لیکن اتنا سناٹا نہ تھا
زندگی موج سراب شوق تھی دریا نہ تھا
کون تھا جو ریگزار دہر میں پیاسا نہ تھا
کس قدر تھے خوشنما موج طلب کے زیر و بم
جب قدم رکھا تو پہنائی کا اندازہ نہ تھا
ہر رگ گل میں صدائے نالہ زنجیر تھی
رنگ کے پردوں میں زندانی کوئی دیوانہ تھا
ظلمت آباد بدن میں یہ ہوا کیسی چلی
شعلۂ جاں اس سے پہلے یوں کبھی لرزا نہ تھا
آفتاب ہجر کی گرمی تھی محشر در کنار
دن تو دن دامان شب میں بھی کہیں سایہ نہ تھا
اپنے اپنے درد میں ڈوبے ہوئے تھے راہ رو
اہل غم کا کارواں بھی کارواں لگتا نہ تھا
جس گل اندام تصور کے نکھارے تھے نقوش
میں نے اس تصویر نغمہ کو کبھی دیکھا نہ تھا
آرزو کی وسعتیں اس کو کہاں تک لے گئیں
ورنہ صادقؔ ایک مشت خاک تھا صحرا نہ تھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.