ہماری جان سے نکلے ہے دم آہستہ آہستہ
ہماری جان سے نکلے ہے دم آہستہ آہستہ
تمہاری سمت اٹھتے ہیں قدم آہستہ آہستہ
بیاں کیسے کروں گا دل کی ویرانی کو غزلوں میں
میں مر جاؤں گا تیرے بن قسم آہستہ آہستہ
میں آنکھیں پھیر لوں گا اور رستہ بھی بدل دوں گا
سو ٹوٹے گا تمہارا بھی بھرم آہستہ آہستہ
کبھی بارش کے موسم میں کسی ویران ڈھابے پر
لٹیں سلجھاؤں گا تیری صنم آہستہ آہستہ
یہ بنجر دل بھی ہوگا ایک دن زرخیز ممکن ہے
برس ہی جائے گا ابر کرم آہستہ آہستہ
یہ دیمک کی طرح اک دن مجھے کھا جائے گی مشتاقؔ
جو بڑھتی جا رہی ہے بیل غم آہستہ آہستہ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.