Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ہماری جان سے نکلے ہے دم آہستہ آہستہ

ثقلین مشتاق

ہماری جان سے نکلے ہے دم آہستہ آہستہ

ثقلین مشتاق

MORE BYثقلین مشتاق

    ہماری جان سے نکلے ہے دم آہستہ آہستہ

    تمہاری سمت اٹھتے ہیں قدم آہستہ آہستہ

    بیاں کیسے کروں گا دل کی ویرانی کو غزلوں میں

    میں مر جاؤں گا تیرے بن قسم آہستہ آہستہ

    میں آنکھیں پھیر لوں گا اور رستہ بھی بدل دوں گا

    سو ٹوٹے گا تمہارا بھی بھرم آہستہ آہستہ

    کبھی بارش کے موسم میں کسی ویران ڈھابے پر

    لٹیں سلجھاؤں گا تیری صنم آہستہ آہستہ

    یہ بنجر دل بھی ہوگا ایک دن زرخیز ممکن ہے

    برس ہی جائے گا ابر کرم آہستہ آہستہ

    یہ دیمک کی طرح اک دن مجھے کھا جائے گی مشتاقؔ

    جو بڑھتی جا رہی ہے بیل غم آہستہ آہستہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے