امید لیے صبح کی ہم رات سے نکلے
امید لیے صبح کی ہم رات سے نکلے
جگنو کی طرح ہم بھی کسی ہاتھ سے نکلے
خیرات دکھاوے کے لیے دے تو رہے ہو
ایسا نہ ہو برکت تری خیرات سے نکلے
حالات سے لڑنے کا ارادہ نہ ہو جس کا
ممکن نہیں وہ گردش حالات سے نکلے
جب آنے لگا مال تو دنیا نے یہ دیکھا
اوقات میں جو لوگ تھے اوقات سے نکلے
بستی کی طرف آ گیا سیلاب کا ریلا
بے گھر ہوئے سب لوگ مکانات سے نکلے
اک دست ہنر مند نے یوں مجھ کو سنوارا
جتنے بھی تھے سب عیب مری ذات سے نکلے
یہ سارا زمانہ ہمیں کہنے لگا باغی
ہم جوں ہی زمانے کی روایات سے نکلے
آنے لگے پھر اور ہمیں تیرے خیالات
ہم جب بھی کبھی تیرے خیالات سے نکلے
یوں اس نے ہمیں دیکھ کے پھیری ہیں نگاہیں
آنکھوں کے سوالات و جوابات سے نکلے
اپنوں کی گواہی پہ گرفتار ہوئے تھے
غیروں کی ضمانت پہ حوالات سے نکلے
جب شہر خموشاں کو زباں مل گئی فیصلؔ
تب جا کے پرندے بھی مضافات سے نکلے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.