Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

امید لیے صبح کی ہم رات سے نکلے

فیصل شہزاد

امید لیے صبح کی ہم رات سے نکلے

فیصل شہزاد

MORE BYفیصل شہزاد

    امید لیے صبح کی ہم رات سے نکلے

    جگنو کی طرح ہم بھی کسی ہاتھ سے نکلے

    خیرات دکھاوے کے لیے دے تو رہے ہو

    ایسا نہ ہو برکت تری خیرات سے نکلے

    حالات سے لڑنے کا ارادہ نہ ہو جس کا

    ممکن نہیں وہ گردش حالات سے نکلے

    جب آنے لگا مال تو دنیا نے یہ دیکھا

    اوقات میں جو لوگ تھے اوقات سے نکلے

    بستی کی طرف آ گیا سیلاب کا ریلا

    بے گھر ہوئے سب لوگ مکانات سے نکلے

    اک دست ہنر مند نے یوں مجھ کو سنوارا

    جتنے بھی تھے سب عیب مری ذات سے نکلے

    یہ سارا زمانہ ہمیں کہنے لگا باغی

    ہم جوں ہی زمانے کی روایات سے نکلے

    آنے لگے پھر اور ہمیں تیرے خیالات

    ہم جب بھی کبھی تیرے خیالات سے نکلے

    یوں اس نے ہمیں دیکھ کے پھیری ہیں نگاہیں

    آنکھوں کے سوالات و جوابات سے نکلے

    اپنوں کی گواہی پہ گرفتار ہوئے تھے

    غیروں کی ضمانت پہ حوالات سے نکلے

    جب شہر خموشاں کو زباں مل گئی فیصلؔ

    تب جا کے پرندے بھی مضافات سے نکلے

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے