تم نے کھویا ہی نہیں کچھ بھی تمہارا کیا ہے
تم نے کھویا ہی نہیں کچھ بھی تمہارا کیا ہے
اس خسارے سے بڑا اور خسارا کیا ہے
ایک امید سی ہے اور سہارا کیا ہے
تیرے ہجراں میں بنا صبر کے چارہ کیا ہے
تیرے ہاتھوں سے سنورنے کی تمنا تھی مجھے
سب بگاڑا ہے مرا تم نے سنوارا کیا ہے
جبر کی دھوپ میں سچ بول کے دیکھو تو سہی
خوف کے سائے میں جینے کا نظارہ کیا ہے
بھوکے بچوں کو کھلونوں سے بھی ڈر لگتا ہے
پیٹ خالی ہو تو پھر چاند ستارا کیا ہے
میں نہیں ہوں تو اناؤں کے اندھیرے کیوں ہیں
گر خدا ہے تو یہاں میرا اجارہ کیا ہے
تیرے آنے سے مہک اٹھتی ہے دل کی دنیا
ورنہ اس دشت تمنا میں ہمارا کیا ہے
تم ہو تیراک بھلا کیسے سمجھ پاؤ گے
ڈوبنے والے سے پوچھو کہ کنارہ کیا ہے
تو جو مل جائے تو قسمت کا ستارہ چمکے
تیرے ہوتے ہوئے قسمت کا ستارہ کیا ہے
دیکھ کر جان لے ہستی کے عجائب فیصلؔ
خالق ارض و سما کا یہ اشارہ کیا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.