Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

تم نے کھویا ہی نہیں کچھ بھی تمہارا کیا ہے

فیصل شہزاد

تم نے کھویا ہی نہیں کچھ بھی تمہارا کیا ہے

فیصل شہزاد

MORE BYفیصل شہزاد

    تم نے کھویا ہی نہیں کچھ بھی تمہارا کیا ہے

    اس خسارے سے بڑا اور خسارا کیا ہے

    ایک امید سی ہے اور سہارا کیا ہے

    تیرے ہجراں میں بنا صبر کے چارہ کیا ہے

    تیرے ہاتھوں سے سنورنے کی تمنا تھی مجھے

    سب بگاڑا ہے مرا تم نے سنوارا کیا ہے

    جبر کی دھوپ میں سچ بول کے دیکھو تو سہی

    خوف کے سائے میں جینے کا نظارہ کیا ہے

    بھوکے بچوں کو کھلونوں سے بھی ڈر لگتا ہے

    پیٹ خالی ہو تو پھر چاند ستارا کیا ہے

    میں نہیں ہوں تو اناؤں کے اندھیرے کیوں ہیں

    گر خدا ہے تو یہاں میرا اجارہ کیا ہے

    تیرے آنے سے مہک اٹھتی ہے دل کی دنیا

    ورنہ اس دشت تمنا میں ہمارا کیا ہے

    تم ہو تیراک بھلا کیسے سمجھ پاؤ گے

    ڈوبنے والے سے پوچھو کہ کنارہ کیا ہے

    تو جو مل جائے تو قسمت کا ستارہ چمکے

    تیرے ہوتے ہوئے قسمت کا ستارہ کیا ہے

    دیکھ کر جان لے ہستی کے عجائب فیصلؔ

    خالق ارض و سما کا یہ اشارہ کیا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے