تم خواب کی دیوار گرا کیوں نہیں دیتے
تم خواب کی دیوار گرا کیوں نہیں دیتے
سوئی ہوئی ہوں مجھ کو جگا کیوں نہیں دیتے
یہ گرد جو خواہش کے دریچوں پہ پڑی ہے
اس دھند میں تم پھول کھلا کیوں نہیں دیتے
ٹہنی ہوں تو آنے دو مرا رنگ بھی مجھ پر
چڑیا ہوں تو پھر مجھ کو اڑا کیوں نہیں دیتے
مالک ہو تو پھر دل میں دھڑکنے چلے آؤ
ہیکل ہو تو کاہن کو صدا کیوں نہیں دیتے
کیا ہے جو ترے بس میں تصرف میں نہیں ہے
امید کی شمعوں کو جلا کیوں نہیں دیتے
بھیگی ہوئی آنکھیں ہیں تو کھولو انہیں مجھ پر
گھلتا ہوا دل ہے تو دعا کیوں نہیں دیتے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.