تیرگی میں ہمت کی روشنی بھی دیکھی ہے
تیرگی میں ہمت کی روشنی بھی دیکھی ہے
موت ہی کے پہلو میں زندگی بھی دیکھی ہے
رزم گاہ عالم میں میری چشم عبرت نے
خواجگی بھی دیکھی ہے خسروی بھی دیکھی ہے
روشنی کے دیوانو گیسوؤں کے سائے میں
نوجواں اجالوں کی خود کشی بھی دیکھی ہے
لٹ گئے سر منزل کارواں امیدوں کے
رہبری کے پردے میں رہزنی بھی دیکھی ہے
ہم نے اے چمن والو تیرگی عالم میں
اک ابھرتے سورج کی روشنی بھی دیکھی ہے
ایک کیف بے کیفی ایک رنگ بے رنگی
ہاں عزیزؔ کی ہم نے شاعری بھی دیکھی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.