تیرگیٔ غم ہے جیسے روشنی کے ساتھ ساتھ
تیرگیٔ غم ہے جیسے روشنی کے ساتھ ساتھ
ہے اسی صورت الم بھی سر خوشی کے ساتھ ساتھ
رہروؤں کا راستہ کیسے رکے گا دوستو
ماہ و انجم کی ضیا ہے تیرگی کے ساتھ ساتھ
موت سے ڈرتے نہیں ہم لوگ راہ شوق میں
موت رہتی ہے ہمیشہ زندگی کے ساتھ ساتھ
لاکھ ہے طوفان راہوں میں بلاؤں کا مگر
خواہش منزل رواں ہے آدمی کے ساتھ ساتھ
دست گلچیں چھو نہیں سکتا ہے کلیوں کا بدن
خار بھی گلشن میں ہے ہر اک کلی کے ساتھ ساتھ
عہد نو کی روشنی میں دیکھیے آتشؔ ذرا
دشمنی کا رنگ بھی ہے دوستی کے ساتھ ساتھ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.