تنہا ہیں اور کلاس میں بیٹھے ہوئے ہیں ہم
تنہا ہیں اور کلاس میں بیٹھے ہوئے ہیں ہم
کب سے تمہاری آس میں بیٹھے ہوئے ہیں ہم
تو دیکھ آنکھ کھول کے تجھ کو نہیں خبر
مدت سے تیرے پاس میں بیٹھے ہوئے ہیں ہم
آئے گا کوئی اور وہ پوچھے گا حال چال
کب سے اسی قیاس میں بیٹھے ہوئے ہیں ہم
تو آ نہ جائیو کبھی بھولے سے ہاتھ میں
اے زندگی بھڑاس میں بیٹھے ہوئے ہیں ہم
دراصل زندگی میں بہت دور ہیں مگر
یادوں کے اقتباس میں بیٹھے ہوئے ہیں ہم
اب قربتوں کے جسم برہنہ ہیں کیا کریں
امید کے لباس میں بیٹھے ہوئے ہیں ہم
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.