روگ دل کا لگا کے بیٹھ گئے
روگ دل کا لگا کے بیٹھ گئے
ساری دنیا بھلا کے بیٹھ گئے
آپ کے عشق کا بھرم رکھا
خود کو پاگل بنا کے بیٹھ گئے
مےکشی کی طلب ہوئی تھی سو
ان سے نظریں ملا کے بیٹھ گئے
ان کو عادت ہے مسکرانے کی
کیوں امیدیں لگا کے بیٹھ گئے
تم بہت دور ہو گئے ہم سے
کس کے نزدیک جا کے بیٹھ گئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.