قضا سے بھی نہ بجھا عشق و آگہی کا چراغ
قضا سے بھی نہ بجھا عشق و آگہی کا چراغ
مرے لہو سے جلا میری زندگی کا چراغ
الجھ رہی ہے سیاہی سے روشنی کی لکیر
یہ دشمنی کا دھواں ہے وہ روشنی کا چراغ
ان آندھیوں کا بگولوں کا کیا گلہ کیجے
جب آدمی ہی بجھاتا ہو آدمی کا چراغ
یہ کس دیار سے آئی ہے رفتگاں کی صدا
ہنسی تمام ہوئی گل ہوا خوشی کا چراغ
کس آنے والے مسافر کے انتظار میں ہیں
زمانے بھر کی نگاہیں تری گلی کا چراغ
دئے بجھے ہیں تو کیا ضو فشاں ہے ماہ تمام
تمہارے بس میں نہیں ہے یہ چاندنی کا چراغ
بڑھاؤ ہاتھ کرو تیز روشنی یارو
تمھارے سامنے رکھا ہے زندگی کا چراغ
اسی سے شمس و قمر کسب نور کرتے ہیں
مری نظر میں فروزاں ہے میرے جی کا چراغ
بغیر خون تمنا بجز خلوص نظر
جمیلؔ جل نہیں سکتا خود آگہی کا چراغ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.