قدر کیجے آپ کا سورج ابھی ڈوبا نہیں
قدر کیجے آپ کا سورج ابھی ڈوبا نہیں
ورنہ ڈوبا جس کا سورج پھر کبھی نکلا نہیں
ذرہ ذرہ آئنہ تھا اور بینائی بھی تھی
حسن بھی تھا مجھ میں کچھ لیکن کبھی دیکھا نہیں
یہ نہ سمجھیں آپ کی باتیں تھیں بالکل بے اثر
کٹ گیا تھا دل اگرچہ آنکھ سے ٹپکا نہیں
آرزو گل کی تھی دل میں خار سے ڈرتے بھی ہیں
یہ فقط خواہش تھی دل کی فیصلہ دل کا نہیں
زندگی تاریک سے تاریک تر ہوتی گئی
تیری چاہت تھی کہ میرا حوصلہ ٹوٹا نہیں
آشناؤں میں تو ہم نے اجنبیت دیکھ لی
اجنبی لوگوں میں لیکن آشنا دیکھا نہیں
وقت فرصت میں بھی اخترؔ سب کے سب مصروف ہیں
سوچتا ہوں درد دل اپنا سناؤں یا نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.