پریشانی ہماری کم نہیں ہے
پریشانی ہماری کم نہیں ہے
اگرچہ فرصت ماتم نہیں ہے
ہمارا ایک ہی ہے آستانہ
یہ جملہ صاف ہے مبہم نہیں ہے
ہم آنکھوں سے زمانہ دیکھتے ہیں
ہمارے پاس جام جم نہیں ہے
تمام عالم ہو جس کے زیر سایہ
تمہارے پاس وہ پرچم نہیں ہے
ابھی سے آپ گھبرانے لگے ہیں
ابھی تو آنکھ بھی پرنم نہیں ہے
ملے گی ہم کو بھی منزل ہماری
ارادہ غیر مستحکم نہیں ہے
سوائے اس کے جس نے دل جلایا
کسی کے پاس بھی مرہم نہیں ہے
اندھیرا دور ہو جائے گا اخترؔ
چراغ عشق اب مدھم نہیں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.