نشاط قرب بھی ہے لذت وداع بھی ہے
نشاط قرب بھی ہے لذت وداع بھی ہے
دیار عاشقی میں درد کی متاع بھی ہے
وہ گرد راہ ہوئے یا فروغ ماہ ہوئے
مسافران طلب کی کچھ اطلاع بھی ہے
دیار دل میں ہے مایوسیوں کا سناٹا
مگر یہیں کہیں امید کی شعاع بھی ہے
چلو کہ اس تہی دست و فقیر مست کے ہاں
مئے مراد بھی ہے محفل سماع بھی ہے
شگفت گل سے سر صحن گلستاں یارو
طلوع صبح بہاراں کی اطلاع بھی ہے
مسافران محبت نہ دل گرفتہ ہوں
معاملات نظر میں غم نزاع بھی ہے
فقیہ شہر سرائے مغاں کی سمت تو آ
یہیں پہ اہل محبت کا اجتماع بھی ہے
فقط روایت شعر عجم نہیں محسنؔ
مری غزل مرے فن میں کچھ اختراع بھی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.