کیا ہو اسے نسبت مرے جلتے ہوئے گھر سے
کیا ہو اسے نسبت مرے جلتے ہوئے گھر سے
سائے میں جو بیٹھا ہے کڑی دھوپ کے ڈر سے
اب جو بھی ملے ہم کو صلہ خون جگر کا
پھل پھول کی امید تو رکھتے ہیں شجر سے
ساقی تری محفل کا یہ دستور بھی دیکھا
چھلکائے کوئی جام کوئی بوند کو ترسے
اک پل کی جدائی بھی گوارا نہ تھی جس کو
بیگانہ صفت آج وہ گزرا ہے ادھر سے
جو کھیلتے امواج سے رہتے تھے ہمیشہ
ساحل پہ وہی بیٹھے ہیں طوفان کے ڈر سے
کاوشؔ مجھے احوال کچھ ان کے بھی سناؤ
بیگانہ جو رہتے ہیں سدا خیر و خبر سے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.