Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جو سوچتا ہوں اگر وہ بیان ہو جائے

اتباف ابرک

جو سوچتا ہوں اگر وہ بیان ہو جائے

اتباف ابرک

MORE BYاتباف ابرک

    جو سوچتا ہوں اگر وہ بیان ہو جائے

    تو پانی پانی یہ سارا جہان ہو جائے

    گلہ ہے آنکھ سے ان کو زبان سے ہے گلہ

    قلم کو حکم ہے وہ بے زبان ہو جائے

    وہاں پہ راستہ ہجرت ہی صرف ہوتا ہے

    جہاں زمین یہ خود آسمان ہو جائے

    تو خود ہی سوچ ذرا حال اس گلستاں کا

    خزاں کے ساتھ جہاں باغبان ہو جائے

    کہاں تلک بھلا اترے کوئی امیدوں پر

    کہ سانس سانس جہاں امتحان ہو جائے

    یوں ختم ہوتا ہے کردار بار بار مرا

    کہ ختم بیچ میں ہی داستان ہو جائے

    اندھیری رات صدا دے رہی ہے آندھی کو

    ہے پھر بھی ضد کہ دیا خوش گمان ہو جائے

    میں وہ دیا ہوں جو سورج کی سوچ سوچتا ہے

    جو چاہتا ہے کہ روشن جہان ہو جائے

    زمانہ لاکھ برا چاہے خواب توڑے مگر

    خدا سے کیسے کوئی بد گمان ہو جائے

    میں کیسے مان لوں اس کو برا یہاں ابرکؔ

    خلاف جس کے جہاں یک زبان ہو جائے

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے