جو سوچتا ہوں اگر وہ بیان ہو جائے
جو سوچتا ہوں اگر وہ بیان ہو جائے
تو پانی پانی یہ سارا جہان ہو جائے
گلہ ہے آنکھ سے ان کو زبان سے ہے گلہ
قلم کو حکم ہے وہ بے زبان ہو جائے
وہاں پہ راستہ ہجرت ہی صرف ہوتا ہے
جہاں زمین یہ خود آسمان ہو جائے
تو خود ہی سوچ ذرا حال اس گلستاں کا
خزاں کے ساتھ جہاں باغبان ہو جائے
کہاں تلک بھلا اترے کوئی امیدوں پر
کہ سانس سانس جہاں امتحان ہو جائے
یوں ختم ہوتا ہے کردار بار بار مرا
کہ ختم بیچ میں ہی داستان ہو جائے
اندھیری رات صدا دے رہی ہے آندھی کو
ہے پھر بھی ضد کہ دیا خوش گمان ہو جائے
میں وہ دیا ہوں جو سورج کی سوچ سوچتا ہے
جو چاہتا ہے کہ روشن جہان ہو جائے
زمانہ لاکھ برا چاہے خواب توڑے مگر
خدا سے کیسے کوئی بد گمان ہو جائے
میں کیسے مان لوں اس کو برا یہاں ابرکؔ
خلاف جس کے جہاں یک زبان ہو جائے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.