اک حسیں شوخ اداکار چھپا ہے مجھ میں
اک حسیں شوخ اداکار چھپا ہے مجھ میں
بس یہی شخص مزے دار بچا ہے مجھ میں
رنج و آلام کا بھی درد بڑھا ہے مجھ میں
دیپ امید کا جس دن سے جلا ہے مجھ میں
اس کی باتوں سے محبت کا گماں ہوتا ہے
جس کا بخشا ہوا ہر زخم ہرا ہے مجھ میں
آئنہ خود بھی گواہی نہیں دیتا لیکن
جانتا ہے وہ کوئی خاص ادا ہے مجھ میں
سر سے پا تک جو عجب شور کی آوازیں ہیں
ایسا لگتا ہے کہ طوفان بپا ہے مجھ میں
اے حبیبؔ اس نے مری پیٹھ میں مارا خنجر
دوست بن کے جو مہ و سال رہا ہے مجھ میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.