Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دریا بھی جو ملے مجھے پیاسا دکھائی دے

عبد الحفیظ نعیمی

دریا بھی جو ملے مجھے پیاسا دکھائی دے

عبد الحفیظ نعیمی

MORE BYعبد الحفیظ نعیمی

    دریا بھی جو ملے مجھے پیاسا دکھائی دے

    سورج بھی پاس ہو تو اندھیرا دکھائی دے

    ماضی کے آئنے کو نہ توڑو کبھی کبھی

    بوڑھا بھی چاہتا ہے کہ بچا دکھائی دے

    ہر راستے میں راہبروں کا ہے وہ ہجوم

    رہ رو ہیں منتظر کوئی رستا دکھائی دے

    بے گانگی کا زہر وہ پھیلا ہے چار سو

    محفل میں بھی ہر ایک اکیلا دکھائی دے

    اس طرح تو نہ میرے قفس کو چمن میں ٹانگ

    جو آشیاں ان آنکھوں کو جلتا دکھائی دے

    یہ معجزہ نہیں تری ہمت کی بات ہے

    طوفاں میں بھی جو تجھ کو کنارا دکھائی دے

    کیا یہ نظام نو تری قدرت سے دور ہے

    ہم رنگ و بو کو سن سکیں نغمہ دکھائی دے

    ہر حادثے کا دوستو ہے اک یہی جواب

    آنکھوں میں اشک بھی ہوں تو ہنستا دکھائی دے

    کیسے کہوں وہ بات کہ ہے آنچ اس قدر

    ہونٹوں پہ حرف حرف پگھلتا دکھائی دے

    پتھر بھی پھینکتے چلو دریا میں ساتھ ساتھ

    اوروں کو تو نہ عکس تمہارا دکھائی دے

    آنکھوں میں کب سے اشک لئے پھر رہا ہوں میں

    شاید کسی جگہ کوئی اپنا دکھائی دے

    پتھرا دیے ہیں وقت نے آنکھوں کے آئنے

    چہروں کی بھیڑ بھی ہو تو اب کیا دکھائی دے

    ٹکڑوں کو آئنے کے ذرا دیکھ جوڑ کر

    شاید گما ہوا کوئی چہرا دکھائی دے

    پتھر کی اور ڈال دو چادر بھی لاش پر

    ایسا نہ ہو کفن میں برہنہ دکھائی دے

    جو راہ روز و شب میں ہے صدیوں سے ہم سفر

    کیا ظلم ہے وہ اب بھی پرایا دکھائی دے

    جب عیش ہو تو دوست نعیمیؔ کے سیکڑوں

    غم کا سوال آئے تو تنہا دکھائی دے

    مأخذ :

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے