دریا بھی جو ملے مجھے پیاسا دکھائی دے
دریا بھی جو ملے مجھے پیاسا دکھائی دے
سورج بھی پاس ہو تو اندھیرا دکھائی دے
ماضی کے آئنے کو نہ توڑو کبھی کبھی
بوڑھا بھی چاہتا ہے کہ بچا دکھائی دے
ہر راستے میں راہبروں کا ہے وہ ہجوم
رہ رو ہیں منتظر کوئی رستا دکھائی دے
بے گانگی کا زہر وہ پھیلا ہے چار سو
محفل میں بھی ہر ایک اکیلا دکھائی دے
اس طرح تو نہ میرے قفس کو چمن میں ٹانگ
جو آشیاں ان آنکھوں کو جلتا دکھائی دے
یہ معجزہ نہیں تری ہمت کی بات ہے
طوفاں میں بھی جو تجھ کو کنارا دکھائی دے
کیا یہ نظام نو تری قدرت سے دور ہے
ہم رنگ و بو کو سن سکیں نغمہ دکھائی دے
ہر حادثے کا دوستو ہے اک یہی جواب
آنکھوں میں اشک بھی ہوں تو ہنستا دکھائی دے
کیسے کہوں وہ بات کہ ہے آنچ اس قدر
ہونٹوں پہ حرف حرف پگھلتا دکھائی دے
پتھر بھی پھینکتے چلو دریا میں ساتھ ساتھ
اوروں کو تو نہ عکس تمہارا دکھائی دے
آنکھوں میں کب سے اشک لئے پھر رہا ہوں میں
شاید کسی جگہ کوئی اپنا دکھائی دے
پتھرا دیے ہیں وقت نے آنکھوں کے آئنے
چہروں کی بھیڑ بھی ہو تو اب کیا دکھائی دے
ٹکڑوں کو آئنے کے ذرا دیکھ جوڑ کر
شاید گما ہوا کوئی چہرا دکھائی دے
پتھر کی اور ڈال دو چادر بھی لاش پر
ایسا نہ ہو کفن میں برہنہ دکھائی دے
جو راہ روز و شب میں ہے صدیوں سے ہم سفر
کیا ظلم ہے وہ اب بھی پرایا دکھائی دے
جب عیش ہو تو دوست نعیمیؔ کے سیکڑوں
غم کا سوال آئے تو تنہا دکھائی دے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.