Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

آنکھ میں یہ جو خواب ادھورا رکھا ہے

دپیش شرما سوبھری

آنکھ میں یہ جو خواب ادھورا رکھا ہے

دپیش شرما سوبھری

MORE BYدپیش شرما سوبھری

    آنکھ میں یہ جو خواب ادھورا رکھا ہے

    اس نے مجھ کو اب تک زندہ رکھا ہے

    سب کی نظریں مجھ پر آ کر ٹھہری ہیں

    میں نے خود پر اتنا پردہ رکھا ہے

    خود سے تیری باتیں کرتا رہتا ہوں

    میں نے تجھ کو ایسے زندہ رکھا ہے

    پیڑ سے گر کر پھل پودے ہو جاتے ہیں

    یعنی کھونے میں بھی پانا رکھا ہے

    خواب تلک میں اب تو دریا آتے ہیں

    پیاس نے مجھ کو اتنا الجھا رکھا ہے

    جال کے کھٹکے نے ہی اب تک پنچھی کو

    دانہ ہونے پر بھی بھوکا رکھا ہے

    روز سمٹنے کا ڈر رہتا ہے مجھ کو

    میں نے خود کو اتنا پھیلا رکھا ہے

    ساری عظمت پانی ہی کی ہے ورنہ

    صحرا کے اوپر ہی دریا رکھا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے