تمہارا کیا گیا گر تھوڑا سا قرار گیا
تمہارا کیا گیا گر تھوڑا سا قرار گیا
یہ دکھ تو میرا ہے اے دل مرا تو یار گیا
میں اپنے شور میں الجھا ہوا تھا اور اک شخص
بڑی خموشی سے آیا مجھے پکار گیا
یہ کس نے میری طرف دیکھا بھی نہیں اک بار
یہ کون تھا جو مرے در سے بے قرار گیا
تمام نیکیاں مل کر مجھے بچا نہ سکیں
بس اک گناہ اکیلا ہی مجھ کو مار گیا
نہ روک پاؤں گا دل کو یہ جانتے ہوئے بھی
نہ لوٹ پائے گا جو اس گلی کے پار گیا
ذرا خبر بھی تجھے ہے کہ تیری ہجرت سے
مجھ ایسے کتنے غریبوں کا روزگار گیا
یوں مسکرا کے مجھے دیکھنا ضروری تھا
رہا سہا بھی مرا خود سے اختیار گیا
میں اس کے عشق نہیں حوصلہ کا قائل ہوں
سیاہ شب تھا میں پھر بھی مجھے گزار گیا
Aavaazon Ka Raushandaan
Buy This BookAdditional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.