شاعری میں ذکر ہوتا ہے بہت تدبیر کا
شاعری میں ذکر ہوتا ہے بہت تدبیر کا
کچھ نہیں تدبیر سارا کھیل ہے تقدیر کا
یار کا دل دار کا دل دار کی تصویر کا
شاعری میں شور ہے تو نالۂ شب گیر کا
اور بڑھتی ہیں مسلسل حسن کی بے تابیاں
چوک جاتا ہے نشانہ جب نظر کے تیر کا
چھین لے یا بخش دے عزت تمہارے نام کو
کچھ پتہ چلتا نہیں ہے حسن کی تاثیر کا
ایک ہی رٹ رات دن آوارگی آوارگی
دوسرا پہلو بھی تو تم دیکھتے تصویر کا
اک غلط فہمی ہوئے ہیں ہم ادھر اور تم ادھر
کیا تمہیں منظور ہے یہ فیصلہ تقدیر کا
خود پرستی خود نمائی سے اگر فرصت ملے
ذکر تب آئے زباں پر کاتب تقدیر کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.