دل کی دیوار پر لگی تصویر
دل کی دیوار پر لگی تصویر
میں نے دیکھی ہے آپ کی تصویر
وہ مصور کے بس کا کام نہیں
جو بناتی ہے شاعری تصویر
اپنا اپنا وہ ہاتھ لہرائے
جس نے دیکھی ہو بولتی تصویر
بات ہوتی ہے ساری باطن کی
مت دکھاؤ یہ ظاہری تصویر
آپ اپنی مثال ہوتی ہے
ان کہی بات ان دکھی تصویر
درد و غم کا دماغ رکھتی ہے
نارسائی میں بھیگتی تصویر
تو ہے یکتا مزاج میں اپنے
تو مصور کی آخری تصویر
تو بناتا ہے جسم کی فوٹو
میں بناؤں گا روح کی تصویر
پھر ترے ہجر سے مزا پایا
پھر خیالوں میں چوم لی تصویر
کیسے ٹوٹے اداسیوں کا طلسم
کیسے دیکھوں میں وصل کی تصویر
مرنے والوں کو آگہی کب ہے
جو رلاتی ہے آخری تصویر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.