اپنی پامالی کی تشہیر لیے پھرتا ہوں
اپنی پامالی کی تشہیر لیے پھرتا ہوں
ایک ہی شخص کی تصویر لیے پھرتا ہوں
دیر سے آنے کی عادت ہے پرانی مجھ کو
ہاتھ پر باندھ کے تاخیر لیے پھرتا ہوں
کبھی فرصت میں وہ اک خواب مجھے دیکھنا ہے
آنکھ میں جس کی میں تعبیر لیے پھرتا ہوں
اس لیے دور بھی میں اس سے نہیں جا پاتا
پیر میں یار کی زنجیر لیے پھرتا ہوں
ہے ازل سے ہی خطا کرنا مرا شیوہ حضور
تبھی اعمال میں تقصیر لیے پھرتا ہوں
لب پہ ہے نام علی ورد ہمیشہ اخترؔ
دل میں میں آیت تطہیر لیے پھرتا ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.