نشاں اس کے ہیں سب جو بے نشاں ہے
نشاں اس کے ہیں سب جو بے نشاں ہے
جدھر دیکھو وہی جلوہ کناں ہے
ازل سے تا ابد حیرت ہی حیرت
یہ دنیا آئنوں کی کہکشاں ہے
یہ دنیا آئنہ خانہ ہے اس کا
جدھر دیکھو وہی تو ضو فشاں ہے
تہی دامن کھڑی ہوں در پہ جس کے
وہی تو مالک کون و مکاں ہے
وجود وہم پر ہو ناز کیونکر
حباب آب سا سارا جہاں ہے
جو ظاہر ہے نظر آتا ہے تجھ کو
یہ نقش باطل و وہم و گماں ہے
ترا مرنا ہے جینے کی علامت
فنا صولتؔ بقا کی داستاں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.