نے آگ ہماری رہی نے دود ہمارا
نے آگ ہماری رہی نے دود ہمارا
بیکار پڑا رہ گیا مشہود ہمارا
اس زلف پریشان کی خوشبو کی قسم ہے
جلتا ہی رہا اس کے لیے عود ہمارا
یہ ہم جو لگی لپٹی اسے کہتے رہے ہیں
کھل جائے کسی روز نہ مقصود ہمارا
اب کوئی براہیم نہ للکار سکے گا
رہتا ہے اسی وہم میں نمرود ہمارا
اس پیڑ کی ٹہنی پہ اداسی ہے غضب کی
پہلو میں ہے جس کے شفق آلود ہمارا
وہ شخص عجب رقص میں مسرور ہے باسطؔ
سنتا ہی نہیں نغمۂ داؤد ہمارا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.