Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کئے جاتا ہے نظارہ تری رعنائی کا

نظیر علی عدیل

کئے جاتا ہے نظارہ تری رعنائی کا

نظیر علی عدیل

MORE BYنظیر علی عدیل

    کئے جاتا ہے نظارہ تری رعنائی کا

    کیا کلیجا ہے حقیقت میں تماشائی کا

    رکھ بھرم حشر میں یا رب دل شیدائی کا

    حشر تو اک بڑا بازار ہے رسوائی کا

    حسن نے کر دیا قابیل کو اندھا ورنہ

    خون کرتا نہ کبھی اپنے سگے بھائی کا

    اصل میں ہاتھ وہ دشمن کی طرف اٹھے تھے

    دیکھنے والوں کو دھوکہ ہوا انگڑائی کا

    آگے دیوانہ گیا رہ گئے دانا پیچھے

    قصۂ دار میں نکتہ ہے یہ دانائی کا

    زیست کی جنگ میں ہم ہار تو دیں گے لیکن

    کوئی امکان نہیں ہے کہیں پسپائی کا

    کیا کریں گے وہ مسیحائی مریض غم کی

    تجربہ ہی نہیں جب ان کو مسیحائی کا

    شہر میں کس لئے آکر نہیں رہتا مجنوں

    داخلہ بند نہیں ہے کسی صحرائی کا

    ہر جگہ اور ہر اک ذرے میں جب ہیں موجود

    نام کیوں ان کو گوارا نہیں ہرجائی کا

    وہ نظر آئے تو دیکھیں گے سنبھل کر اس کو

    ہم ہیں موسیٰ نہ کوئی زعم ہے بینائی کا

    نہ میسر ہوا اب تک کسی لشکر کو عدیلؔ

    وہ جو انداز ہے مژگاں کی صف آرائی کا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے