کئے جاتا ہے نظارہ تری رعنائی کا
کئے جاتا ہے نظارہ تری رعنائی کا
کیا کلیجا ہے حقیقت میں تماشائی کا
رکھ بھرم حشر میں یا رب دل شیدائی کا
حشر تو اک بڑا بازار ہے رسوائی کا
حسن نے کر دیا قابیل کو اندھا ورنہ
خون کرتا نہ کبھی اپنے سگے بھائی کا
اصل میں ہاتھ وہ دشمن کی طرف اٹھے تھے
دیکھنے والوں کو دھوکہ ہوا انگڑائی کا
آگے دیوانہ گیا رہ گئے دانا پیچھے
قصۂ دار میں نکتہ ہے یہ دانائی کا
زیست کی جنگ میں ہم ہار تو دیں گے لیکن
کوئی امکان نہیں ہے کہیں پسپائی کا
کیا کریں گے وہ مسیحائی مریض غم کی
تجربہ ہی نہیں جب ان کو مسیحائی کا
شہر میں کس لئے آکر نہیں رہتا مجنوں
داخلہ بند نہیں ہے کسی صحرائی کا
ہر جگہ اور ہر اک ذرے میں جب ہیں موجود
نام کیوں ان کو گوارا نہیں ہرجائی کا
وہ نظر آئے تو دیکھیں گے سنبھل کر اس کو
ہم ہیں موسیٰ نہ کوئی زعم ہے بینائی کا
نہ میسر ہوا اب تک کسی لشکر کو عدیلؔ
وہ جو انداز ہے مژگاں کی صف آرائی کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.