خود بہ خود ایسے وہ شعروں میں اتر آتا ہے
خود بہ خود ایسے وہ شعروں میں اتر آتا ہے
جیسے مالک بنا دستک دیئے گھر آتا ہے
یہ ضروری نہیں ہو گھر کا پتہ تو آئے
اس کو بن آئے بھی آنے کا ہنر آتا ہے
دل سے اٹھ جاتی ہے ہر شے کی محبت اس دم
جب محبت کے کوئی زیر اثر آتا ہے
مجھ کو معلوم نہیں آپ کی صورت کیا ہے
مجھ کو ہر شخص میں وہ شخص نظر آتا ہے
یہ محبت کبھی تا دیر نہیں چھپ سکتی
یہ وہ ڈوبا ہے جو کچھ دور ابھر آتا ہے
کس کی بن سکتی ہے خود سوچو بھلا اس دل سے
جو بھی کہتا ہوں الٹ اس کا یہ کر آتا ہے
دوست آساں نہیں برسوں کی ریاضت ہے کہ اب
بہ خوشی سوگ منانے کا ہنر آتا ہے
ہے یہ احساس غلط راہ نکل آیا ہوں
ایسے رستے میں مگر موڑ کدھر آتا ہے
آج پھرتا ہے جو اس شہر میں ہنستا بستا
کل کے اخبار میں وہ بن کے خبر آتا ہے
لازماً ماں نے مری یاد کیا ہوگا مجھے
ورنہ صحرا میں بھلا سبز شجر آتا ہے
اپنی مرضی یہاں رکھتا نہیں کوئی ابرکؔ
اٹھ کے چل دیتا ہے جب حکم سفر آتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.