جب تصور تیرا ساقی دل کے میخانے میں تھا
جب تصور تیرا ساقی دل کے میخانے میں تھا
لطف مے حاصل تھا تازہ کیف پیمانے میں تھا
ایک ہی چلو میں بے ہوشی گئی ہوش آ گیا
ساقیا کیا بادۂ بے کیف خم خانے میں تھا
ڈوبنے کو تھا کوئی دم میں سفینہ عمر کا
پھر بھی دیوانہ ترا غرق اپنے افسانے میں تھا
دانے دانے کو ہیں محتاج آج ہم سب ورنہ کل
گنج تاروں کا نشاں خرمن کے ہر دانے میں تھا
آج تو مسجد میں محسنؔ معتکف ہے شکر ہے
کل یہی مرد خدا سرشار میخانے میں تھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.