ہے آج کل مرا وجدان صوفیوں کی طرح
ہے آج کل مرا وجدان صوفیوں کی طرح
اور اس پہ ہے مجھے ایمان صوفیوں کی طرح
بنا لیا ہے جو اک دوست کو خدا تو نے
کر اس خدا کا بھی اعلان صوفیوں کی طرح
بچھڑ رہا ہوں مگر مضطرب نہیں ہوں میں
نکل رہی ہے مری جان صوفیوں کی طرح
فلاسفہ کی طرح مت الجھ مباحث میں
جو ماننا ہے اسے مان صوفیوں کی طرح
الجھ کے کار جہاں میں بھی تجھ سے دور نہیں
کیا ہوا ہے ترا دھیان صوفیوں کی طرح
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.