Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

گزر کے لوح و قلم سے تلاش یار میں تھا

نظیر علی عدیل

گزر کے لوح و قلم سے تلاش یار میں تھا

نظیر علی عدیل

MORE BYنظیر علی عدیل

    گزر کے لوح و قلم سے تلاش یار میں تھا

    میں اک حصار سے نکلا تو اک حصار میں تھا

    چمن سے پھول نکلتے ہی انتشار میں تھا

    کسی کی قبر پہ تھا یا کسی کے ہار میں تھا

    وجود ہو کے فنا گوشۂ مزار میں تھا

    طویل قصے کا انجام اختصار میں تھا

    اذاں کی لے میں وہ نغمہ حرم میں گونج گیا

    صدا بدل کے جو ناقوس کی پکار میں تھا

    اڑان بھر کے ڈھلا ہے جسد میں آدم کے

    زمیں کا حسن جو بکھرا ہوا غبار میں تھا

    سلگ کے سرمہ ہوا جب سے آنکھ آنکھ میں ہے

    وگرنہ طور تو پتھر تھا کس شمار میں تھا

    فضا ہی ایسی تھی کچھ اے عدیلؔ دنیا کی

    میں نیند میں رہا یا نیند کے خمار میں تھا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے