گزر کے لوح و قلم سے تلاش یار میں تھا
گزر کے لوح و قلم سے تلاش یار میں تھا
میں اک حصار سے نکلا تو اک حصار میں تھا
چمن سے پھول نکلتے ہی انتشار میں تھا
کسی کی قبر پہ تھا یا کسی کے ہار میں تھا
وجود ہو کے فنا گوشۂ مزار میں تھا
طویل قصے کا انجام اختصار میں تھا
اذاں کی لے میں وہ نغمہ حرم میں گونج گیا
صدا بدل کے جو ناقوس کی پکار میں تھا
اڑان بھر کے ڈھلا ہے جسد میں آدم کے
زمیں کا حسن جو بکھرا ہوا غبار میں تھا
سلگ کے سرمہ ہوا جب سے آنکھ آنکھ میں ہے
وگرنہ طور تو پتھر تھا کس شمار میں تھا
فضا ہی ایسی تھی کچھ اے عدیلؔ دنیا کی
میں نیند میں رہا یا نیند کے خمار میں تھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.