درد کو ضبط کے پنجرے میں رکھا جاتا ہے
درد کو ضبط کے پنجرے میں رکھا جاتا ہے
زہر کو شہد کے پیالے میں رکھا جاتا ہے
اک تماشا ہے بدن روح کی بربادی کا
نور کو خاک کے سانچے میں رکھا جاتا ہے
خواب کی دھوپ بدن پر نہ پڑے اس خاطر
چاندنی کو بھی اندھیرے میں رکھا جاتا ہے
وہ جو مجذوب ہو سچ بول کے مر جائے گا
اس کے کردار کو فتوے میں رکھا جاتا ہے
التجا پہلے رکھی جاتی تھی اللہ کے حضور
اب دعاؤں کو لفافے میں رکھا جاتا ہے
صوفیوں کا ہے یہ انداز محبت راشدؔ
نفس کو ضبط کے حلقے میں رکھا جاتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.